عمران خان کے بہتر طبی علاج کے لیے دنیا بھر کے سابق کرکٹرز اور کپتانوں کی جانب سے آواز اٹھانے کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تازہ اپیل میں ۲۲ سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے عمران خان کو مناسب طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
اس اپیل میں بھارت کے سابق کپتان سنیل گاوسکر اور کپل دیو سمیت آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور دیگر ممالک کے سابق کپتان شامل ہیں۔ ان کرکٹرز نے سیاسی معاملے کے بجائے عمران خان کے ساتھ بطور سابق کرکٹر اپنے تعلق اور انسانی بنیادوں پر ان کے علاج سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس صورتحال پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے سابق کپتان عمران خان کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ پاکستانی کرکٹ کے سابق کپتانوں کی جانب سے ایسی اجتماعی آواز نمایاں طور پر سامنے نہیں آئی۔ خاص طور پر ان سابق پاکستانی کھلاڑیوں کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے جو عمران خان کے ساتھ کرکٹ کھیل چکے ہیں یا ان کی قیادت میں قومی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔
عمران خان کے طبی علاج سے متعلق عالمی کرکٹ شخصیات کی تشویش اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں ان کی صحت اور جیل میں طبی سہولیات کے حوالے سے مسلسل سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے۔ سابق کپتانوں نے اپنی اپیل میں مناسب طبی معائنہ، خاندان سے ملاقات اور فوری طبی دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔
اس اپیل میں بھارت کے سابق کپتان سنیل گاوسکر اور کپل دیو سمیت آسٹریلیا، انگلینڈ، ویسٹ انڈیز اور دیگر ممالک کے سابق کپتان شامل ہیں۔ ان کرکٹرز نے سیاسی معاملے کے بجائے عمران خان کے ساتھ بطور سابق کرکٹر اپنے تعلق اور انسانی بنیادوں پر ان کے علاج سے متعلق تشویش کا اظہار کیا ہے۔
اس صورتحال پر سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک کے سابق کپتان عمران خان کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں، جبکہ پاکستانی کرکٹ کے سابق کپتانوں کی جانب سے ایسی اجتماعی آواز نمایاں طور پر سامنے نہیں آئی۔ خاص طور پر ان سابق پاکستانی کھلاڑیوں کے حوالے سے بحث ہو رہی ہے جو عمران خان کے ساتھ کرکٹ کھیل چکے ہیں یا ان کی قیادت میں قومی ٹیم کا حصہ رہے ہیں۔
عمران خان کے طبی علاج سے متعلق عالمی کرکٹ شخصیات کی تشویش اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان میں ان کی صحت اور جیل میں طبی سہولیات کے حوالے سے مسلسل سیاسی اور عوامی بحث جاری ہے۔ سابق کپتانوں نے اپنی اپیل میں مناسب طبی معائنہ، خاندان سے ملاقات اور فوری طبی دیکھ بھال کی اہمیت پر زور دیا ہے۔



