ڈی چوک سے متعلق ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاں سے بات ختم ہوئی تھی، آغاز بھی وہیں سے ہوگا۔ بیان میں خیبر پختونخوا کے لوگوں کے جذبات کا حوالہ دیتے ہوئے اس امکان کا اظہار کیا گیا ہے کہ ڈی چوک ایک بار پھر سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بن سکتا ہے۔
بیان میں امید ظاہر کی گئی ہے کہ عوام کے جائز آئینی اور قانونی مطالبات تسلیم کیے جائیں گے۔ اس مؤقف کے مطابق، عوامی مسائل کے حل کے لیے آئینی اور قانونی تقاضوں کو اہمیت دینا ضروری ہے۔
تاہم بیان میں کسی احتجاج کی تاریخ، حتمی پروگرام یا منتظمین کی جانب سے باقاعدہ اعلان کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ اس لیے ڈی چوک پر کسی نئی سرگرمی کے آغاز سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔



