جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان میں غیر ملکی کمپنیوں کی دلچسپی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ملٹی نیشنل کمپنیاں مختلف ممالک میں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہیں، لیکن پاکستان کے معاملے میں صرف امریکہ ہی کیوں دلچسپی لے رہا ہے؟ مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ دیگر ممالک کی کمپنیوں کے لیے رکاوٹیں کیوں کھڑی کی جا رہی ہیں اور انہیں پاکستان میں سرمایہ کاری کے یکساں مواقع کیوں نہیں دیے جا رہے۔ ان کے بیان میں غیر ملکی سرمایہ کاری…
-
-
-
سحرش مان نے خیبر پختونخوا کے ان اضلاع میں قائم مشاورتی کونسل پر طنزیہ تبصرہ کیا ہے جہاں ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس کونسل میں ایک ایسے شخص کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جسے وفات پائے تین سال گزر چکے ہیں۔ سحرش مان نے اپنے بیان میں اس معاملے کو اجاگر کرتے ہوئے مشاورتی کونسل کی تشکیل اور اس میں شامل افراد کی تفصیلات پر سوال اٹھایا۔ ان کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ اگر کسی وفات یافتہ شخص کا نام واقعی کونسل میں شامل ہے تو اس سے متعلقہ…
-
جمی ورک نے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدیں اچانک بند کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس فیصلے سے دونوں جانب ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے ہیں اور اربوں روپے مالیت کا تجارتی سامان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق سرحدی بندش کے باعث ایسی اجناس بھی خراب ہو سکتی ہیں جنہیں زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔ جمی ورک نے اپنے بیان میں کہا کہ تاجروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی خطرے میں پڑ گئی ہے اور سرحدیں بند ہونے سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا…
-
اوریا مقبول جان نے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے سے ایک سیاسی بیان دیتے ہوئے فارم 47 کا ذکر کیا اور صوبے کی حکومت کو دیگر صوبائی حکومتوں سے مختلف قرار دیا۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کی حکومت باقی چار حکومتوں کی طرح فارم 47 کی مبینہ بے ایمانی کی پیداوار نہیں تھی۔ اوریا مقبول جان نے اپنے بیان میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ باقی حکومتوں کی عزت کے تحفظ کے لیے خیبر پختونخوا حکومت کو ختم کرنا ضروری تھا۔ ان کا یہ تبصرہ صوبائی حکومتوں کی تشکیل اور سیاسی جواز سے متعلق اختلافات کی عکاسی کرتا…
-
صحافی ایثار رانا نے پاکستان کی ڈپلومیسی پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے ملکی سفارتی کامیابیوں کے دعووں پر سوال اٹھایا۔ اپنے بیان میں انہوں نے ہمالیہ کی چوٹی پر بیٹھ کر کامیابیوں کا ذکر کرنے کا طنزیہ استعارہ استعمال کیا۔ ایثار رانا نے اپنے تبصرے میں بھارت، افغانستان اور ایران کے ساتھ سرحدوں کی بندش کا حوالہ دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ایک طرف ڈپلومیسی کی کامیابیوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف ان تینوں پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدیں بند ہونے کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کا یہ بیان پاکستان کی…
-
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عرب ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے حل کے لیے مذاکرات کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق فریقین کے لیے مذاکرات کے ذریعے کسی نتیجے پر پہنچنا ناگزیر ہے، جبکہ بات چیت کے ذریعے حل نہ نکلنے اور فوجی تصادم کی صورت میں مکہ الائنس کا اجتماعی ڈیٹرنس حرکت میں آئے گا۔ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے حرمین شریفین کے تحفظ کو پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ…
-
صحافی انیق ناجی نے طاقت اور اختیار کی زیادہ سے زیادہ خواہش کے نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسروں کو ختم کرکے تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش بہت مہنگی پڑ سکتی ہے۔ ان کے مطابق جب کوئی شخص یا فریق دوسروں کو مسلسل پیچھے ہٹاتا یا ختم کرتا چلا جاتا ہے تو ان کی ذمہ داریاں بھی بالآخر اسی کے حصے میں آ جاتی ہیں۔ انیق ناجی نے اپنے بیان میں کہا کہ اختیارات کے ارتکاز کے ساتھ نقصانات، مشکلات اور محرومیوں کی ذمہ داری بھی ایک ہی فریق پر آ جاتی ہے۔ ان…
-
حفیظ اللہ نیازی نے اپنے بیان میں مقتدرہ سے اپیل کی ہے کہ وہ غصے کے بجائے ان کی معروضات پر ہمدردانہ غور کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کو بچانے کے لیے عمران خان کے علاوہ کوئی دوسرا انتخاب موجود نہیں اور موجودہ حالات میں ریاست کے تحفظ کو نظام کی بحالی پر ترجیح دی جانی چاہیے۔ حفیظ اللہ نیازی نے ملک میں نظام کے ممکنہ انہدام پر تشویش کا اظہار کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وطنِ عزیز کو درپیش سنگین صورتحال میں ریاست کو بچانے کی فکر زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے اپنے مؤقف…
-
سینئر صحافی اور تجزیہ کار ارشاد بھٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا سابق انگلش کپتان اور معروف کمنٹیٹر مائیکل ایتھرٹن کو عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کا اسکائی اسپورٹس پر انٹرویو کرنے کی وجہ سے پاکستان کا ویزا نہیں دیا گیا؟ ارشاد بھٹی نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں اس معاملے پر وضاحت طلب کی ہے۔ یہ معاملہ اس وقت زیرِ بحث آیا جب مائیکل ایتھرٹن اور ناصر حسین کے نام پاکستان، انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان ہونے والی ون ڈے ٹرائی سیریز کے کمنٹری پینل میں شامل نہیں تھے۔ دستیاب میڈیا رپورٹس…