یبر پختونخوا میں ایڈووکیٹ جنرل آفس کے پورے عملے کو فارغ کرنے کا اعلامیہ جاری کر دیا گیا ہے۔ محکمہ قانون کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ایڈووکیٹ جنرل آفس میں تعینات عملے کو عہدوں سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ چھبیس ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرلز اور اکتیس اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرلز کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں صوبے کے قانونی امور سے متعلق حکومتی ٹیم میں بڑی تبدیلی سامنے آئی ہے۔
-
-
سقوطِ ڈھاکہ کے تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے ایک طنزیہ سیاسی تحریر سامنے آئی ہے، جس میں انیس سو اکہتر کے حالات اور موجودہ پاکستان کی سیاسی و ادارہ جاتی صورتحال کا موازنہ کیا گیا ہے۔ تحریر میں اس وقت کے آرمی چیف یحییٰ خان اور چیف جسٹس منیر کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ آرمی چیف منیر اور چیف جسٹس یحییٰ کے ناموں کی مماثلت کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اسی تقابل کے ذریعے موجودہ حالات پر تنقید کی گئی ہے۔ بیان کے آخر میں موجودہ صورتحال کو سقوطِ ڈھاکہ کے دور سے بھی زیادہ تشویش ناک قرار دیا…
-
ابرار قریشی نے تحریک انصاف اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان جاری سیاسی کشمکش پر تبصرہ کرتے ہوئے چھبیس نومبر کے اسلام آباد واقعات کا حوالہ دیا ہے۔ ان کے مطابق، اس وقت دونوں کے درمیان مقابلہ وفاقی دارالحکومت کے بجائے تحریک انصاف کے سیاسی مرکز خیبرپختونخوا میں ہو رہا ہے۔ ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ بحال ہونے کے بعد عوام کو صورتِ حال کے بارے میں مزید معلومات مل سکیں گی۔ انہوں نے موجودہ کشمکش کے نتائج کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا کہ آخر اس میں کامیابی کس فریق کو حاصل ہوگی۔
-
ذرائع کے حوالے سے سہیل آفریدی کی موجودہ جگہ سے متعلق سوال اٹھایا گیا ہے کہ آیا وہ اس وقت خیبرپختونخوا کینٹ میں موجود ہیں یا انہیں کسی قلعے میں رکھا گیا ہے۔ اس حوالے سے فراہم کردہ معلومات میں کسی مخصوص مقام کی حتمی تصدیق موجود نہیں۔ دونوں ممکنہ مقامات کا ذکر ذرائع سے منسوب سوال کے طور پر کیا گیا ہے۔ سہیل آفریدی کی موجودہ جگہ سے متعلق صورتِ حال واضح ہونے کے لیے متعلقہ مقام کی مستند تصدیق ضروری ہے۔
-
ابرار قریشی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسٹیبلشمنٹ کا مبینہ پائلٹ پروجیکٹ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر یہ اقدام کامیاب ہو گیا تو دوسرے صوبوں اور بعد ازاں پورے پاکستان میں بھی ایمرجنسی نافذ کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اپنے بیان میں ابرار قریشی نے ملک میں فوجی حکمرانی کے ممکنہ خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سابق فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے دور کا حوالہ دیا۔ انہوں نے تاحیات استثنیٰ کے تصور کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بنایا۔ ابرار قریشی کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے…
-
-
مولانا فضل الرحمان نے گورنر راج کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف سیاسی اور قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عوام کے درمیان جائیں گے اور پارلیمان میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان نے اپنے بیان میں عدالت سے رجوع کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور کسی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے بیان میں گورنر راج کے فیصلے کے خلاف عوامی رابطے، پارلیمانی سرگرمیوں اور قانونی…
-
ابرار قریشی نے ملک کی سیاسی صورتحال پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک ایسا منظر بھی دیکھنے کو ملا جہاں ان کے بقول ہارے ہوئے لوگوں کی حکومت نے جیتنے والے لوگوں کی حکومت ختم کر دی۔ اپنے بیان میں انہوں نے سیاسی اقتدار کی تبدیلی پر سوال اٹھاتے ہوئے اسے ملک میں جاری سیاسی صورتحال کی ایک مثال قرار دیا۔ ان کے تبصرے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی اور عوامی مینڈیٹ کے درمیان تعلق پر بحث ہونی چاہیے۔
-
گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی مشاورتی کونسل سے متعلق ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر کو صحت کے محکمے کی ذمہ داری سونپنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، نگار جوہر پاک فوج کی پہلی خاتون سرجن جنرل رہ چکی ہیں۔ بیان میں انہیں مشاورتی کونسل میں صحت کے شعبے سے متعلق ذمہ داری دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔
-
سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے ایمرجنسی سے متعلق ویڈیو جاری کیے جانے پر طنزیہ تبصرہ کیا ہے۔ ان کے بیان کے مطابق، ویڈیو جاری کرنے کا مقصد یہ یقینی بنانا تھا کہ بعد میں آصف علی زرداری اس معاملے سے انکار نہ کر سکیں۔ مطیع اللہ جان نے اپنے تبصرے میں مری معاہدے کا حوالہ بھی دیا اور معاہدوں سے متعلق اس جملے کا ذکر کیا کہ ’’معاہدے قرآنی صحیفے نہیں ہوتے۔‘‘ انہوں نے اس مثال کے ذریعے سیاسی معاہدوں اور وعدوں پر عمل درآمد کے حوالے سے طنز کیا۔