ابرار قریشی کا نو مئی اور کور کمانڈر ہاؤس لاہور سے متعلق سوال۔
تازہ خبریں - سیاست

اگر حاضر سروس کرنل وردی میں سرعام فائرنگ کر سکتا ہے تو 9 مئی کو کور کمانڈر ہاؤس میں فوجیوں نے گولی کیوں نہیں چلائی؟ ابرار قریشی

صحافی ابرار قریشی نے نو مئی کے واقعات کے حوالے سے ایک اہم سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک حاضر سروس فوجی کرنل اپنی بیوی سے بدتمیزی پر وردی میں سرعام فائرنگ کر سکتا ہے تو نو مئی کے دن ڈیوٹی پر تعینات فوجیوں نے لاہور کے کور کمانڈر ہاؤس میں عوام کے داخل ہونے پر گولی کیوں نہیں چلائی۔

ابرار قریشی نے اپنے بیان میں سوال کیا کہ "ہے کسی کے پاس اس سوال کا جواب؟" ان کے مطابق ایک طرف وردی میں موجود فوجی افسر کی جانب سے فائرنگ کا واقعہ سامنے آتا ہے، جبکہ دوسری جانب نو مئی کے روز کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں مظاہرین کے داخل ہونے کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں کے ردعمل کے حوالے سے سوالات موجود ہیں۔

نو مئی دو ہزار تئیس کو عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ لاہور میں مظاہرین کور کمانڈر ہاؤس، جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے، تک پہنچے اور عمارت میں داخل ہونے کے بعد توڑ پھوڑ اور آتش زنی کے واقعات پیش آئے۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق عمارت کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں نے ابتدا میں مظاہرین کو اندر جانے سے روکنے کی کوشش کی، تاہم بڑی تعداد میں موجود افراد کے باعث وہ انہیں روکنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔

نو مئی کے واقعات کے بارے میں مختلف فریقوں کے مؤقف ایک دوسرے سے مختلف رہے ہیں۔ فوجی حکام نے ان واقعات کو فوجی تنصیبات پر حملوں کے طور پر بیان کیا، جبکہ عمران خان اور ان کے حامیوں کی جانب سے واقعات، ذمہ داری اور سیکیورٹی کے کردار پر سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *