سیاسی تجزیہ کار ابرار قریشی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے امکان پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام پر غور کیا جا سکتا ہے اور اسے سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ابرار قریشی کے مطابق گورنر راج نافذ ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے تجزیے میں گورنر راج کے ممکنہ سیاسی اثرات کی جانب توجہ دلائی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو صرف فوری سیاسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
ابرار قریشی کا یہ بیان خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ اور اس کے سیاسی نتائج سے متعلق ان کے تجزیے پر مبنی ہے۔
ابرار قریشی کے مطابق گورنر راج نافذ ہونے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے تجزیے میں گورنر راج کے ممکنہ سیاسی اثرات کی جانب توجہ دلائی۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے معاملے کو صرف فوری سیاسی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات کو بھی مدنظر رکھنا ہوگا۔
ابرار قریشی کا یہ بیان خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے ممکنہ نفاذ اور اس کے سیاسی نتائج سے متعلق ان کے تجزیے پر مبنی ہے۔



