صحافی اور تجزیہ کار ابرار قریشی نے پاکستان میں کرپشن اور احتساب کے نظام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس ملک میں نیب قوانین کے مطابق
پچاس کروڑ روپے تک کرپشن کی حد مقرر ہو، اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہنا اسلام اور جمہور کی توہین ہے۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا:
"جس ملک میں کرپشن کرنے کی حد نیب قوانین کے مطابق پچاس کروڑ جائز ہو، اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہنا اسلام اور جمہور کی توہین ہے۔"
انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا:
"نقوی صاحب، سسٹم کلَیپس نہیں ہوا، پورے ملک کا جنازہ نکال دیا ہے۔"
ابرار قریشی نے اس بیان کے ذریعے موجودہ احتسابی نظام، کرپشن سے متعلق قوانین اور ملک کے مجموعی سیاسی و انتظامی نظام پر شدید تنقید کی ہے۔
واضح رہے کہ پچاس کروڑ روپے کی رقم کا حوالہ نیب کے دائرہ اختیار سے متعلق مالی حد کے تناظر میں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچاس کروڑ روپے تک کرپشن قانوناً جائز ہے۔ کرپشن بہرحال غیر قانونی عمل ہے، جبکہ مالی حد اس بات سے متعلق ہوتی ہے کہ کسی معاملے پر نیب کا دائرہ اختیار لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔
پچاس کروڑ روپے تک کرپشن کی حد مقرر ہو، اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہنا اسلام اور جمہور کی توہین ہے۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا:
"جس ملک میں کرپشن کرنے کی حد نیب قوانین کے مطابق پچاس کروڑ جائز ہو، اسے اسلامی جمہوریہ پاکستان کہنا اسلام اور جمہور کی توہین ہے۔"
انہوں نے وزیر داخلہ محسن نقوی کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا:
"نقوی صاحب، سسٹم کلَیپس نہیں ہوا، پورے ملک کا جنازہ نکال دیا ہے۔"
ابرار قریشی نے اس بیان کے ذریعے موجودہ احتسابی نظام، کرپشن سے متعلق قوانین اور ملک کے مجموعی سیاسی و انتظامی نظام پر شدید تنقید کی ہے۔
واضح رہے کہ پچاس کروڑ روپے کی رقم کا حوالہ نیب کے دائرہ اختیار سے متعلق مالی حد کے تناظر میں ہے، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پچاس کروڑ روپے تک کرپشن قانوناً جائز ہے۔ کرپشن بہرحال غیر قانونی عمل ہے، جبکہ مالی حد اس بات سے متعلق ہوتی ہے کہ کسی معاملے پر نیب کا دائرہ اختیار لاگو ہوتا ہے یا نہیں۔



