صحافی ابرار قریشی نے ملک میں پیش آنے والے مختلف واقعات پر عوامی ردعمل اور اجتماعی رویے کے حوالے سے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج سے کرنل کی گولی، کرنل کا احتساب، کرنل کا کورٹ مارشل اور کرنل کی بیوی کے ساتھ لڑائی کے معاملے کو بھلا کر پمز اسپتال میں بچوں کی موت پر ماتم کیا جائے گا۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں ایک کے بعد دوسرا افسوسناک واقعہ سامنے آتا ہے اور عوام کی توجہ نئے واقعے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے معاملات بہت جلد پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ان پر ہونے والی بحث بھی ختم ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "یہی اس ملک کے عوام کا المیہ ہے، یہ دوسرے روز بھول جاتے ہیں کل کیا ہوا تھا۔" ان کے مطابق کسی بھی واقعے پر صرف وقتی ردعمل کے بجائے اس کے ذمہ داروں کے تعین، احتساب اور مستقل حل کی ضرورت ہوتی ہے۔
ابرار قریشی کے بیان میں ایک طرف کرنل سے متعلق فائرنگ اور احتساب کے معاملے کو اجاگر کیا گیا جبکہ دوسری جانب پمز اسپتال میں بچوں کی اموات کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعات کو وقتی طور پر یاد رکھنے کے بجائے ہر معاملے کے منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے۔
پمز اسپتال کے واقعے نے انسانی جانوں کے تحفظ اور اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کرنل سے متعلق واقعہ بھی عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ دونوں معاملات میں حقائق اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ملک میں ایک کے بعد دوسرا افسوسناک واقعہ سامنے آتا ہے اور عوام کی توجہ نئے واقعے کی طرف منتقل ہوجاتی ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ روز پیش آنے والے معاملات بہت جلد پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور ان پر ہونے والی بحث بھی ختم ہوجاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ "یہی اس ملک کے عوام کا المیہ ہے، یہ دوسرے روز بھول جاتے ہیں کل کیا ہوا تھا۔" ان کے مطابق کسی بھی واقعے پر صرف وقتی ردعمل کے بجائے اس کے ذمہ داروں کے تعین، احتساب اور مستقل حل کی ضرورت ہوتی ہے۔
ابرار قریشی کے بیان میں ایک طرف کرنل سے متعلق فائرنگ اور احتساب کے معاملے کو اجاگر کیا گیا جبکہ دوسری جانب پمز اسپتال میں بچوں کی اموات کو قومی سطح پر توجہ کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ واقعات کو وقتی طور پر یاد رکھنے کے بجائے ہر معاملے کے منطقی انجام تک پہنچنا ضروری ہے۔
پمز اسپتال کے واقعے نے انسانی جانوں کے تحفظ اور اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کے حوالے سے بھی تشویش پیدا کی ہے، جبکہ کرنل سے متعلق واقعہ بھی عوامی اور سیاسی حلقوں میں بحث کا موضوع بنا ہوا ہے۔ دونوں معاملات میں حقائق اور ذمہ داری کا تعین متعلقہ تحقیقات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔



