اسلام آباد: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اب روز بدلنے لگی ہیں، اور آج والا اضافہ عوام کے لیے واقعی تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اوگرا نے تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پٹرول 4 روپے 93 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا، جس کے بعد اب یہ 320 روپے 73 پیسے کا ہو چکا ہے۔ ڈیزل والوں کے لیے خبر اس سے بھی زیادہ بری ہے — 7 روپے 15 پیسے کا اضافہ ہوا اور فی لیٹر قیمت 367 روپے 21 پیسے تک جا پہنچی۔
عجیب بات یہ ہے کہ ابھی کل ہی، یعنی 21 جولائی کو، حکومت نے پٹرول 35 پیسے سستا کر کے ایک طرح سے "خوشخبری" سنائی تھی۔ لوگوں نے شاید سکون کا سانس بھی نہیں لیا ہوگا کہ اگلے ہی دن وہی 35 پیسے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ رقم کے ساتھ، واپس نکلوا لی گئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ریلیف نہیں تھا، بس ایک وقتی جھلک تھی — جیسے کسی کو ایک لمحے کے لیے چھت پر لے جا کر واپس تہہ خانے میں دھکیل دیا جائے۔
نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے لاگو ہوں گی۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ اب ہفتہ وار کی بجائے روزانہ نظرثانی ضروری ہو گئی ہے، تاکہ ملکی قیمتیں بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ رہیں۔ سنتے میں یہ دلیل معقول لگتی ہے، مگر عام آدمی کے لیے اس کا مطلب صرف ایک ہے: اب ہر صبح یہ سوچنا پڑے گا کہ آج پٹرول کتنے کا ملے گا۔ اور جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا — سبزی، پھل، کرایہ، سب کچھ آہستہ آہستہ مہنگا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ ابھی کل ہی، یعنی 21 جولائی کو، حکومت نے پٹرول 35 پیسے سستا کر کے ایک طرح سے "خوشخبری" سنائی تھی۔ لوگوں نے شاید سکون کا سانس بھی نہیں لیا ہوگا کہ اگلے ہی دن وہی 35 پیسے، بلکہ اس سے کہیں زیادہ رقم کے ساتھ، واپس نکلوا لی گئی۔ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ریلیف نہیں تھا، بس ایک وقتی جھلک تھی — جیسے کسی کو ایک لمحے کے لیے چھت پر لے جا کر واپس تہہ خانے میں دھکیل دیا جائے۔
نئی قیمتیں آج رات 12 بجے سے لاگو ہوں گی۔ حکومتی موقف یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ اب ہفتہ وار کی بجائے روزانہ نظرثانی ضروری ہو گئی ہے، تاکہ ملکی قیمتیں بین الاقوامی رجحانات سے ہم آہنگ رہیں۔ سنتے میں یہ دلیل معقول لگتی ہے، مگر عام آدمی کے لیے اس کا مطلب صرف ایک ہے: اب ہر صبح یہ سوچنا پڑے گا کہ آج پٹرول کتنے کا ملے گا۔ اور جب ڈیزل مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑیوں تک محدود نہیں رہتا — سبزی، پھل، کرایہ، سب کچھ آہستہ آہستہ مہنگا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔



