سمی دین بلوچ نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کو مخاطب کرتے ہوئے ایک درد بھرا اور جذباتی پیغام دیا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ مریم نواز نے ڈی چوک اسلام آباد میں دھرنے میں شرکت کر کے ان جیسی بیٹیوں کا ہاتھ پکڑا تھا اور گمشدہ پیاروں کے درد کو محسوس کرنے کی باتیں کی تھیں۔ عمران خان کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ سمی دین بلوچ نے کہا کہ آج ان کے گمشدہ والد کو سترہ سال مکمل ہو چکے ہیں۔ سترہ سال کا یہ عرصہ ایک بیٹی کے لیے کتنا تکلیف دہ ہے اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتی ہے جو اس درد سے گزری ہو۔ مریم نواز کی حکومت کو ڈھائی سال گزر چکے ہیں لیکن وعدہ پورا نہیں ہوا۔ سمی دین بلوچ نے سوال کیا کہ کیا حکومت میں آنے کے بعد انسانیت کے معیار بدل جاتے ہیں؟ کیا حکومت میں آنے کے بعد ہماری تکلیف نظر نہیں آتی؟ انہوں نے مریم نواز سے بطور بیٹی پوچھا کہ کیا وہ ابھی بھی ان کی تکلیف محسوس کر سکتی ہیں یا وہ احساس صرف اپوزیشن کی حد تک تھا؟ یہ سوال پاکستان میں جبری گمشدگیوں کے المناک مسئلے اور حکومتوں کے وعدوں اور عملی اقدامات کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کو اجاگر کرتا ہے۔



