جماعت اسلامی کے سابق امیر سراج الحق نے کہا ہے کہ اگر امریکہ اور افغانستان بیس سالہ جنگ کے باوجود مذاکرات کر سکتے ہیں اور پاکستان ایران و امریکہ کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر سکتا ہے تو کشمیری عوام کے مسائل بھی طاقت کے بجائے مذاکرات، افہام و تفہیم اور باہمی اعتماد سے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے وہ اپنا کردار ادا کریں اور کشمیری عوام کے مسائل کے حل کے لیے آگے آئیں۔ سراج الحق کا یہ بیان آزاد کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔



