محمد حنیف نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے لیے موجود ہاٹ لائن کا ذکر کیا۔ ان کے مطابق، اگرچہ دونوں ملکوں کے درمیان معمول کی بول چال اور تجارت محدود ہے۔
محمد حنیف نے اپنے بیان میں طنزیہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ شاید اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کی جانب سے کوئی اہم شخصیت پاکستان سے رابطہ کرے اور انتخابی عمل سے متعلق طریقے پوچھے۔ ان کے تبصرے میں الیکشن چوری کے الزام کو طنز کے طور پر پیش کیا گیا۔
ان کا یہ بیان پاکستان اور بھارت کے سیاسی تعلقات کے ساتھ انتخابی عمل پر ہونے والی بحث کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ محمد حنیف نے ہاٹ لائن کے تصور کو استعمال کرتے ہوئے دونوں ممالک کی دشمنی اور انتخابی دھاندلی کے الزامات کے درمیان ایک طنزیہ موازنہ پیش کیا۔



