جمی ورک نے پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدیں اچانک بند کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس فیصلے سے دونوں جانب ہزاروں کنٹینرز پھنس گئے ہیں اور اربوں روپے مالیت کا تجارتی سامان متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق سرحدی بندش کے باعث ایسی اجناس بھی خراب ہو سکتی ہیں جنہیں زیادہ دیر تک محفوظ نہیں رکھا جا سکتا۔
جمی ورک نے اپنے بیان میں کہا کہ تاجروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی خطرے میں پڑ گئی ہے اور سرحدیں بند ہونے سے انہیں بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ سرحدیں بند کرنے کی وجوہات کیا ہیں اور اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے اس صورت حال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے اسے عوام اور تاجروں کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ جمی ورک نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آیا پاکستان اپنے عوام اور کاروباری طبقے کو مشکلات میں ڈال کر امریکہ کو خوش کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کے بیان کا مرکزی نکتہ پاک ایران تجارت کی بندش کے ممکنہ معاشی اثرات، تاجروں کے مالی تحفظ اور سرحدیں بند کرنے کے فیصلے کی وجوہات سے متعلق وضاحت کا مطالبہ ہے۔ تاہم، سرحدی بندش کی اصل وجوہات، اس کے دورانیے اور امریکہ کو خوش کرنے سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات سے نہیں ہوتی۔



