لاہور ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی جب ایس پی عبداللہ اپنے ہی محرر کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر کمرہ عدالت میں نہ پڑھ سکے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور پنجاب میں ایف آئی آرز کے معیار سے متعلق سخت ریمارکس دیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پورے پنجاب کا بیڑا غرق ہے، پنجاب میں یہی حال ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایف آئی آر کے تحریری معیار پر بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی اور اس میں مکھیاں بنی ہوئی ہیں، مکھیوں کا سائز بھی بڑا ہوتا ہے۔
عدالت نے معاملے پر آئی جی پنجاب کو کل طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران ایف آئی آر کے اندراج اور پولیس ریکارڈ کی تحریر کے معیار سے متعلق امور زیر بحث آئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے صورتحال پر برہمی کا اظہار کیا اور پنجاب میں ایف آئی آرز کے معیار سے متعلق سخت ریمارکس دیے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پورے پنجاب کا بیڑا غرق ہے، پنجاب میں یہی حال ہے۔
چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ایف آئی آر کے تحریری معیار پر بھی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایف آئی آر پڑھنے کے قابل نہیں ہوتی اور اس میں مکھیاں بنی ہوئی ہیں، مکھیوں کا سائز بھی بڑا ہوتا ہے۔
عدالت نے معاملے پر آئی جی پنجاب کو کل طلب کر لیا ہے۔ سماعت کے دوران ایف آئی آر کے اندراج اور پولیس ریکارڈ کی تحریر کے معیار سے متعلق امور زیر بحث آئے۔



