مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) صفدر نے نئے صوبوں کے قیام کی بحث پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو صوبوں کی نہیں بلکہ بنیادی ضروریات پوری کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ پٹرول کہاں سے پورا ہوگا اور آٹا کہاں سے آئے گا۔
کیپٹن صفدر نے موجودہ علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف خطے میں جنگ کی صورتحال ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ حالات میں اس معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا اور پاکستان اس صورتحال کو کس طرح سنبھالے گا۔
انہوں نے سی پیک کے مستقبل سے متعلق بھی سوال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی تو نئے صوبوں کے قیام سمیت دیگر انتظامی معاملات پر بھی توجہ دی جاسکے گی۔
کیپٹن (ر) صفدر کے بیان میں بنیادی توجہ معاشی مسائل، ایندھن اور اشیائے خورونوش کی دستیابی پر رہی۔ پاکستان اس وقت عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے اثرات سے بھی نمٹ رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف کے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔
کیپٹن صفدر نے موجودہ علاقائی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف خطے میں جنگ کی صورتحال ہے جبکہ دوسری جانب پاکستان نے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ موجودہ حالات میں اس معاہدے کا مستقبل کیا ہوگا اور پاکستان اس صورتحال کو کس طرح سنبھالے گا۔
انہوں نے سی پیک کے مستقبل سے متعلق بھی سوال کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس وقت معاشی استحکام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کی معیشت مضبوط ہوگی تو نئے صوبوں کے قیام سمیت دیگر انتظامی معاملات پر بھی توجہ دی جاسکے گی۔
کیپٹن (ر) صفدر کے بیان میں بنیادی توجہ معاشی مسائل، ایندھن اور اشیائے خورونوش کی دستیابی پر رہی۔ پاکستان اس وقت عالمی توانائی منڈی میں اتار چڑھاؤ اور علاقائی کشیدگی کے اثرات سے بھی نمٹ رہا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے اور کم آمدنی والے طبقات کے لیے ہدفی ریلیف کے اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے۔



