جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ریاست کے کردار پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست تو ماں ہوتی ہے اور ماں اپنے بچوں کو اکٹھا کرتی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں ایک عجیب ماں ملی ہے جو ہمیں اکٹھا کرنے کے بجائے تتربتر کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور ریاستی پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
ان کے بیان میں ملک کے مختلف طبقات اور سیاسی قوتوں کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیے جانے کے تاثر پر تنقید نمایاں رہی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ریاست سے متعلق اپنے مؤقف کو ایک تشبیہ کے ذریعے بیان کیا اور کہا کہ ریاست کو اپنے تمام شہریوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بیان ملکی سیاسی صورتحال اور ریاست و سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے ان کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ہمیں ایک عجیب ماں ملی ہے جو ہمیں اکٹھا کرنے کے بجائے تتربتر کرنے کی سیاست کرتی ہے۔ انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال اور ریاستی پالیسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے یہ بات کہی۔
ان کے بیان میں ملک کے مختلف طبقات اور سیاسی قوتوں کو متحد کرنے کے بجائے تقسیم کیے جانے کے تاثر پر تنقید نمایاں رہی۔ مولانا فضل الرحمٰن نے ریاست سے متعلق اپنے مؤقف کو ایک تشبیہ کے ذریعے بیان کیا اور کہا کہ ریاست کو اپنے تمام شہریوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمٰن کا یہ بیان ملکی سیاسی صورتحال اور ریاست و سیاسی جماعتوں کے باہمی تعلقات کے حوالے سے ان کے سخت مؤقف کی عکاسی کرتا ہے۔



