مفتاح اسماعیل نے عمران خان کی کراچی میں مقبولیت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں عمران خان کی خاصی مقبولیت موجود ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ انتخابات میں فارم پینتالیس کے مطابق عمران خان کے حمایت یافتہ امیدواروں نے متعدد نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عام ووٹر کی ترجیح اپنے روزمرہ کے مسائل ہوتے ہیں اور اسے ریاست کے سامنے براہِ راست محاذ آرائی کے لیے سڑکوں پر لانا آسان کام نہیں۔ انہوں نے مہنگائی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں لوگوں سے احتجاج کے لیے باہر نکلنے، ریاستی کارروائی کا سامنا کرنے اور مقدمات کا خطرہ مول لینے کی توقع رکھنا ایک بڑی امید کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام اس وقت اپنے معاشی اور ذاتی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، جس کے باعث کسی بڑی سیاسی تحریک کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم مفتاح اسماعیل کے مطابق اگر پاکستان تحریک انصاف کراچی اور لاہور میں پچیس پچیس ہزار افراد کو احتجاج کے لیے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے حکومت پر نمایاں سیاسی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں عمران خان کی مقبولیت اور پی ٹی آئی کی احتجاجی صلاحیت کو موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کے لیے موجودہ معاشی حالات اور عوامی مشکلات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ عام ووٹر کی ترجیح اپنے روزمرہ کے مسائل ہوتے ہیں اور اسے ریاست کے سامنے براہِ راست محاذ آرائی کے لیے سڑکوں پر لانا آسان کام نہیں۔ انہوں نے مہنگائی اور عوام کو درپیش معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں لوگوں سے احتجاج کے لیے باہر نکلنے، ریاستی کارروائی کا سامنا کرنے اور مقدمات کا خطرہ مول لینے کی توقع رکھنا ایک بڑی امید کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام اس وقت اپنے معاشی اور ذاتی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں، جس کے باعث کسی بڑی سیاسی تحریک کے لیے لوگوں کو متحرک کرنا آسان نہیں ہوگا۔
تاہم مفتاح اسماعیل کے مطابق اگر پاکستان تحریک انصاف کراچی اور لاہور میں پچیس پچیس ہزار افراد کو احتجاج کے لیے باہر نکالنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے حکومت پر نمایاں سیاسی دباؤ پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے اپنی گفتگو میں عمران خان کی مقبولیت اور پی ٹی آئی کی احتجاجی صلاحیت کو موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے پر عوامی شرکت کے لیے موجودہ معاشی حالات اور عوامی مشکلات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔



