معروف صحافی مہر بخاری نے ملک کے سرکاری اسپتالوں کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے ایک اہم تجویز پیش کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکمران طبقہ خود سرکاری طبی نظام پر انحصار نہیں کرے گا، اس وقت تک ان اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مطلوبہ دباؤ پیدا نہیں ہوگا۔
مہر بخاری کے مطابق وزیراعظم، وفاقی کابینہ اور ان کے بچوں کے لیے یہ لازم ہونا چاہیے کہ وہ اپنا علاج سرکاری اسپتالوں سے کروائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکمرانوں کے اہلخانہ بھی انہی اسپتالوں میں علاج کروائیں گے جہاں عام شہری جاتے ہیں تو طبی سہولیات، صفائی، انتظامی نظام اور حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے پمز سمیت سرکاری اسپتالوں کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کا براہ راست سرکاری طبی نظام سے منسلک ہونا اسپتالوں کے معیار میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔
مہر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ایسے نظام میں اسپتالوں کی سرٹیفیکیشن، ایس او پیز اور ان پر عمل درآمد کو بھی زیادہ سنجیدگی سے یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق حکمران طبقے کو بھی وہی طبی سہولیات استعمال کرنی چاہئیں جو عام شہریوں کے لیے دستیاب ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ یہ اصول صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ان کی کابینہ پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔
یہ تجویز سرکاری اسپتالوں میں سہولیات، انتظامی معیار اور مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک وسیع تر بحث کو جنم دیتی ہے۔ تاہم عملی طور پر ایسے قانون کے نفاذ کے لیے واضح قانونی طریقہ کار اور پالیسی فریم ورک درکار ہوگا۔
مہر بخاری کے مطابق وزیراعظم، وفاقی کابینہ اور ان کے بچوں کے لیے یہ لازم ہونا چاہیے کہ وہ اپنا علاج سرکاری اسپتالوں سے کروائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکمرانوں کے اہلخانہ بھی انہی اسپتالوں میں علاج کروائیں گے جہاں عام شہری جاتے ہیں تو طبی سہولیات، صفائی، انتظامی نظام اور حفاظتی اقدامات پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
انہوں نے پمز سمیت سرکاری اسپتالوں کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں اور ان کے خاندانوں کا براہ راست سرکاری طبی نظام سے منسلک ہونا اسپتالوں کے معیار میں بہتری کا باعث بن سکتا ہے۔
مہر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ایسے نظام میں اسپتالوں کی سرٹیفیکیشن، ایس او پیز اور ان پر عمل درآمد کو بھی زیادہ سنجیدگی سے یقینی بنایا جائے گا۔ ان کے مطابق حکمران طبقے کو بھی وہی طبی سہولیات استعمال کرنی چاہئیں جو عام شہریوں کے لیے دستیاب ہیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ یہ اصول صرف وفاقی حکومت تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ان کی کابینہ پر بھی لاگو کیا جانا چاہیے۔
یہ تجویز سرکاری اسپتالوں میں سہولیات، انتظامی معیار اور مریضوں کے تحفظ کے حوالے سے ایک وسیع تر بحث کو جنم دیتی ہے۔ تاہم عملی طور پر ایسے قانون کے نفاذ کے لیے واضح قانونی طریقہ کار اور پالیسی فریم ورک درکار ہوگا۔



