پمز اسپتال میں نومولود بچوں کی ہلاکت کے افسوسناک واقعے کے بعد صحافی ابرار قریشی نے پاکستان میں انسانی جان کے تحفظ اور ریاستی ذمہ داریوں پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پمز میں بچوں کی اموات کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان میں انسان کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ملک میں انسانی جان کی حفاظت کے حوالے سے موجود صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے پاکستان کو ایک غیر محفوظ ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ ابرار قریشی کے مطابق شہریوں کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ابرار قریشی نے مزید دعویٰ کیا کہ پچانوے فیصد پاکستانی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں موجود غیر یقینی صورتحال اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات عوام میں مایوسی پیدا کر رہے ہیں۔
پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے نے ایک بار پھر اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ پمز میں بچوں کی اموات کے بعد یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ پاکستان میں انسان کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کے مطابق ملک میں انسانی جان کی حفاظت کے حوالے سے موجود صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
انہوں نے پاکستان کو ایک غیر محفوظ ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں۔ ابرار قریشی کے مطابق شہریوں کو مختلف نوعیت کے خطرات کا سامنا ہے اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری شہریوں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔
ابرار قریشی نے مزید دعویٰ کیا کہ پچانوے فیصد پاکستانی ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق ملک میں موجود غیر یقینی صورتحال اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق خدشات عوام میں مایوسی پیدا کر رہے ہیں۔
پمز اسپتال میں پیش آنے والے واقعے نے ایک بار پھر اسپتالوں میں حفاظتی انتظامات اور انسانی جانوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کو نمایاں کر دیا ہے۔ واقعے کی وجوہات اور ذمہ داری کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔



