حافظ حمد اللہ کا حمود الرحمٰن کمیشن کی سفارشات اور احتساب سے متعلق بیان۔
تازہ خبریں - سیاست

حمود الرحمٰن کمیشن کی سفارشات پر عمل کیوں نہ ہوا؟ حافظ حمد اللہ نے اہم سوال اٹھا دیے

جمعیت علمائے اسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ نے حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ اور اس کی سفارشات پر عملدرآمد نہ ہونے کے معاملے پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن نے اعلیٰ فوجی افسران، جن میں بڑے بڑے جنرلز بھی شامل تھے، کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔

حافظ حمد اللہ نے سوال اٹھایا کہ اگر کمیشن کی رپورٹ میں اعلیٰ فوجی افسران کے حوالے سے ذمہ داری اور کارروائی کی سفارشات موجود تھیں تو اس رپورٹ کو طویل عرصے تک کیوں دبایا گیا اور ان سفارشات کی بنیاد پر مقدمات کیوں نہیں چلائے گئے۔ حمود الرحمٰن کمیشن ۱۹۷۱ کے واقعات اور مشرقی پاکستان میں فوجی شکست اور ہتھیار ڈالنے کے اسباب کی تحقیقات کے لیے قائم کیا گیا تھا۔

کمیشن کی رپورٹ کئی برس تک خفیہ رہی اور اس کے بیشتر حصے دسمبر ۲۰۰۰ میں عام کیے گئے۔ دستیاب تاریخی ریکارڈ کے مطابق رپورٹ میں عسکری قیادت اور دفاعی نظام سے متعلق متعدد سنگین خامیوں اور بعض اعلیٰ فوجی افسران کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا تھا۔

حافظ حمد اللہ کے بیان کا بنیادی سوال احتساب کے اصول سے متعلق ہے کہ اگر قانون اور احتساب سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے تو ماضی کے اس اہم باب میں سفارشات پر عملی کارروائی کیوں نظر نہیں آئی۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ تاریخ کے اس معاملے پر خاموشی کی وجہ کیا ہے اور ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہ ہوسکی۔

حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ آج بھی پاکستان کی سیاسی اور عسکری تاریخ کے اہم ترین دستاویزات میں شمار ہوتی ہے۔ اس رپورٹ پر دوبارہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں اداروں کے احتساب، قانون کی بالادستی اور ماضی کی ذمہ داریوں کے تعین پر سیاسی بحث جاری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *