سیاستدانوں کا بھیانک کارنامہ
آرمی ڈیفنس ایکٹ میں مبینہ تبدیلی کے بعد وزیراعظم کے اختیارات سے متعلق ایک اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئی تبدیلیوں کے بعد وزیراعظم کے بعض اہم اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں اور آئندہ فیلڈ مارشل کو تمام فورسز کے سربراہان کے انتخاب اور انہیں عہدوں سے فارغ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جن معاملات میں پہلے وزیراعظم کے دستخط ضروری تھے، وہاں اب فیلڈ مارشل کے دستخط ہوں گے۔
اگر یہ دعوے قانون کی منظور شدہ شقوں میں موجود ہیں تو اس سے پاکستان کے سول اور عسکری اختیارات کے توازن پر اہم آئینی اور سیاسی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
تاہم مذکورہ دعووں کی مکمل قانونی حیثیت اور اصل اختیارات جاننے کے لیے ترمیم شدہ قانون کی حتمی شقوں کا جائزہ ضروری ہے۔
آرمی ڈیفنس ایکٹ میں مبینہ تبدیلی کے بعد وزیراعظم کے اختیارات سے متعلق ایک اہم دعویٰ سامنے آیا ہے۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نئی تبدیلیوں کے بعد وزیراعظم کے بعض اہم اختیارات ختم کر دیے گئے ہیں اور آئندہ فیلڈ مارشل کو تمام فورسز کے سربراہان کے انتخاب اور انہیں عہدوں سے فارغ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ جن معاملات میں پہلے وزیراعظم کے دستخط ضروری تھے، وہاں اب فیلڈ مارشل کے دستخط ہوں گے۔
اگر یہ دعوے قانون کی منظور شدہ شقوں میں موجود ہیں تو اس سے پاکستان کے سول اور عسکری اختیارات کے توازن پر اہم آئینی اور سیاسی سوالات اٹھ سکتے ہیں۔
تاہم مذکورہ دعووں کی مکمل قانونی حیثیت اور اصل اختیارات جاننے کے لیے ترمیم شدہ قانون کی حتمی شقوں کا جائزہ ضروری ہے۔



