صحافی زورین نظامانی نے عمران خان کے دور حکومت اور موجودہ میڈیا کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عمران خان کے دور میں ان کے خلاف بھی آرٹیکلز لکھا کرتی تھیں، لیکن انہیں کبھی یہ خوف نہیں تھا کہ کوئی ان کے گھر کے باہر آ کر یہ پوچھنے کے لیے کھڑا ہو جائے گا کہ انہوں نے ایسا کیوں لکھا۔
زورین نظامانی نے موجودہ میڈیا کے بعض حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج جتنے بھی "ٹاؤٹس" ہیں، ان سب کا ایک ہی پیٹرن ہے کہ عمران خان برا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عمران خان کی برائیاں کرکے ویوز حاصل کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنا میڈیا بیانیہ چلاتے ہیں۔
زورین نظامانی کے مطابق جس دن عمران خان باہر آیا، ایسے لوگوں کے کیریئر ختم ہو جائیں گے۔
ان کا یہ بیان عمران خان کے حوالے سے موجودہ میڈیا بیانیے، صحافتی آزادی اور سوشل میڈیا پر ویوز کے لیے ہونے والی سیاسی بحث پر سخت تنقید کی عکاسی کرتا ہے۔
زورین نظامانی نے موجودہ میڈیا کے بعض حلقوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج جتنے بھی "ٹاؤٹس" ہیں، ان سب کا ایک ہی پیٹرن ہے کہ عمران خان برا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ لوگ عمران خان کی برائیاں کرکے ویوز حاصل کرتے ہیں اور اسی بنیاد پر اپنا میڈیا بیانیہ چلاتے ہیں۔
زورین نظامانی کے مطابق جس دن عمران خان باہر آیا، ایسے لوگوں کے کیریئر ختم ہو جائیں گے۔
ان کا یہ بیان عمران خان کے حوالے سے موجودہ میڈیا بیانیے، صحافتی آزادی اور سوشل میڈیا پر ویوز کے لیے ہونے والی سیاسی بحث پر سخت تنقید کی عکاسی کرتا ہے۔



