راولاکوٹ کی صورتحال اور نوجوانوں کی شہادت کے تناظر میں عمر نظیر کشمیری نے طاقت کے استعمال پر سوال اٹھاتے ہوئے ایک دردناک بیان جاری کیا ہے، جس میں ایک شہید نوجوان کی ماں کے صبر، حوصلے اور اپنے بیٹے کی قربانی پر فخر کا ذکر کیا گیا ہے۔
عمر نظیر کشمیری نے اپنے بیان میں کہا:
“تُم اس قوم کو طاقت کے ذور پر کُچلنا چاہتے ہو؟؟
ایک ماں نے اپنے جوان بیٹے کو دواؤں کے ساتھ گھر سے رخصت کیا لیکن جب تمھارے طاقت کے غرور نے اس سے ذندگی چھین لی تو ماں نے کفن میں لپٹے جوان بیٹے کو دیکھ کر حوصلے کے ساتھ پوچھا گولی کہاں کھائی ہے؟
کیونکہ اُس ماں کی دُنیا ظالم، جابر، قاتل حکمرانوں اور فورسز نے اُجاڑی ہے مگر اس درد و کرب کے باوجود ماں کو فخر ہیکہ بیٹا ظُلم و جبر کے خلاف پُرامن طور پر لڑتے ہوئے شہید ہوا ہے۔”
عمر نظیر کشمیری نے اس بیان کے ذریعے ایک ایسے خاندان کے دکھ کو بیان کیا ہے جس نے اپنے جوان بیٹے کو کھو دیا۔ ان کے الفاظ میں ایک ماں کا درد، حوصلہ اور اپنے بیٹے کی جدوجہد پر فخر نمایاں ہے۔
بیان میں طاقت کے استعمال اور عوامی احتجاج سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔ راولاکوٹ کی کشیدہ صورتحال کے دوران سامنے آنے والا یہ بیان انسانی جانوں کے تحفظ، پُرامن احتجاج اور عوامی مطالبات کے حوالے سے ایک اہم بحث کو اجاگر کرتا ہے۔


