طاہر اشرفی نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے ماں اور بچوں کی مثال دی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماں بچوں کو پالتی ہے اور اگر کوئی بچہ نافرمان ہو جائے تو ماں کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا علاج کس طرح کرنا ہے، چاہے پیار سے یا سختی سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ماں باپ جانتے ہیں کہ بچے کی اصلاح کے لیے کون سا طریقہ اختیار کرنا ہے۔ طاہر اشرفی نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ جو بچہ جوان ہو کر اپنی ماں کے منہ پر تھپڑ مارے، اسے نافرمان ہی کہا جا سکتا ہے۔
طاہر اشرفی نے اسی مثال کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو ریاست کا نافرمان بچہ قرار دیا۔ ان کا یہ بیان دونوں شخصیات کے درمیان جاری سیاسی اختلاف اور ریاست سے متعلق مؤقف کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔



