صحافی مظہر برلاس نے عمران خان سے متعلق اٹک جیل کے واقعات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ جس جائے نماز پر عمران خان نماز ادا کرتے ہیں، جیل کا عملہ اسے مقدس سمجھ کر اپنے گھروں کو لے جاتا ہے۔ ان کے بیان میں عمران خان سے وابستہ اشیا کے حوالے سے عملے کے رویے کا ذکر کیا گیا ہے۔
مظہر برلاس کے مطابق، اٹک جیل میں جس کرسی پر عمران خان پہلی مرتبہ جا کر بیٹھے تھے، اس کے معاملے پر سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے درمیان لڑائی بھی ہو گئی تھی۔ انہوں نے اس واقعے کو عمران خان کی جیل میں موجودگی سے جڑے ایک غیر معمولی واقعے کے طور پر بیان کیا۔
ان کے بیان میں عمران خان کے حوالے سے جیل کے عملے کے مبینہ احترام اور ان سے منسوب اشیا کی اہمیت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ تاہم، ان واقعات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں، اس لیے انہیں مظہر برلاس کے بیان کردہ دعووں کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔



