عمر نذیر کشمیری نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے بار بار شٹر ڈاؤن کی کال دینے پر اعتراض کرنے والوں کو راولاکوٹ کے تاجروں کی مشکلات پر توجہ دینے کا کہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر تنقید کرنے سے پہلے شہر کے کاروباری طبقے کو درپیش حالات کو بھی دیکھا جانا چاہیے۔
اپنے بیان میں عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ پانچ جون سے اب تک چار ماہ اور چھ دن گزر چکے ہیں اور ان کے مطابق راولاکوٹ شہر مکمل طور پر بند ہے۔ انہوں نے اس صورتِ حال کو تاجروں کے لیے شدید مشکلات کا سبب قرار دیا۔
عمر نذیر کشمیری کے مطابق راولاکوٹ میں تاجروں کی دکانوں کو لوٹا گیا، املاک کو نقصان پہنچایا گیا اور بڑی دکانوں میں بھی توڑ پھوڑ کی گئی۔ انہوں نے ان واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شٹر ڈاؤن کال پر اعتراض کرنے والوں کو متاثرہ تاجروں کے حالات بھی مدنظر رکھنے چاہییں۔
ان کا بیان جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی شٹر ڈاؤن کال، راولاکوٹ میں کاروباری سرگرمیوں کی بندش اور تاجروں کو مبینہ طور پر ہونے والے نقصانات کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔



