ابرار قریشی نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے ممکنہ نفاذ پر تنقید کرتے ہوئے اسے اسٹیبلشمنٹ کا مبینہ پائلٹ پروجیکٹ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق، اگر یہ اقدام کامیاب ہو گیا تو دوسرے صوبوں اور بعد ازاں پورے پاکستان میں بھی ایمرجنسی نافذ کرنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
اپنے بیان میں ابرار قریشی نے ملک میں فوجی حکمرانی کے ممکنہ خدشات کا اظہار کرتے ہوئے سابق فوجی حکمران جنرل ایوب خان کے دور کا حوالہ دیا۔ انہوں نے تاحیات استثنیٰ کے تصور کو بھی اپنی تنقید کا حصہ بنایا۔
ابرار قریشی کے بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا ممکنہ فیصلہ صرف ایک صوبے تک محدود رہنے کے بجائے ملک کے سیاسی اور آئینی نظام پر وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔



