سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صوبے کے عوام کے ساتھ مخلصی کا دعویٰ کیا جاتا ہے تو پولیس کو سیاست سے دور رکھا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا پولیس کو پنجاب پولیس نہ بنایا جائے، کیونکہ پولیس کی ذمہ داریاں پہلے ہی بہت زیادہ ہیں۔ سہیل آفریدی کے مطابق پولیس صوبے میں دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے، جسے وہ حکومتی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کو ذاتی ملازم سمجھ کر دوسرے کاموں میں لگانے کے بجائے اسے اپنے بنیادی فرائض انجام دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ ان کا یہ بیان پولیس کی خودمختاری، سیاسی مداخلت اور صوبے میں امن و امان کی صورتحال سے متعلق سیاسی بحث کا حصہ ہے۔



