اختیار ولی نے خیبرپختونخوا میں پولیس اور سکیورٹی کی صورتحال سے متعلق اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ 2025 سے 2026 کے دوران پولیس شہادتوں میں 93 فیصد اضافہ ہوا۔
ان کے مطابق اسی عرصے میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعات میں 108 فیصد جبکہ دہشتگرد حملوں میں تقریباً 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اختیار ولی نے خیبرپختونخوا کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے وسائل سے متعلق بھی دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے سی ٹی ڈی ڈپارٹمنٹ کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلز، 11 نائٹ ویژن ڈیوائسز اور 17 بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں۔
اختیار ولی کے بیان میں خیبرپختونخوا میں پولیس کی جانی و مالی صورتحال اور سی ٹی ڈی کے دستیاب وسائل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں مذکورہ اعداد و شمار کے ماخذ یا متعلقہ حکام کا مؤقف شامل نہیں ہے۔
ان کے مطابق اسی عرصے میں پولیس اہلکاروں کے زخمی ہونے کے واقعات میں 108 فیصد جبکہ دہشتگرد حملوں میں تقریباً 34 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
اختیار ولی نے خیبرپختونخوا کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے وسائل سے متعلق بھی دعویٰ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ پورے سی ٹی ڈی ڈپارٹمنٹ کے پاس صرف 9 ایم فور رائفلز، 11 نائٹ ویژن ڈیوائسز اور 17 بلٹ پروف گاڑیاں موجود ہیں۔
اختیار ولی کے بیان میں خیبرپختونخوا میں پولیس کی جانی و مالی صورتحال اور سی ٹی ڈی کے دستیاب وسائل پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں مذکورہ اعداد و شمار کے ماخذ یا متعلقہ حکام کا مؤقف شامل نہیں ہے۔



