صحافی حامد میر نے ڈاکٹر یاسمین راشد کی اسیری کے دوران سامنے آنے والی تخلیقی صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی ہاتھ سے کی گئی کڑھائی کو سراہا ہے۔
حامد میر کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے اسیری کے دوران تکیوں اور صوفہ کشنز پر مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی کی مدد سے خوبصورت کڑھائی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام دیکھنے والوں کے لیے حیران کن تھا۔
حامد میر نے اپنے بیان میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جیل میں اپنے اندر چھپی بہار کو آزاد کر دیا۔ ان کے مطابق اس بہار کے رنگوں اور خوشبو کو اب دنیا کی کوئی طاقت قید نہیں رکھ سکتی۔
حامد میر کا یہ بیان ڈاکٹر یاسمین راشد کی اسیری کے دوران اختیار کی گئی ایک تخلیقی سرگرمی اور ان کی کڑھائی کے فن کو اجاگر کرتا ہے۔
حامد میر کے مطابق ڈاکٹر یاسمین راشد نے اسیری کے دوران تکیوں اور صوفہ کشنز پر مختلف رنگوں کے دھاگوں اور سوئی کی مدد سے خوبصورت کڑھائی کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام دیکھنے والوں کے لیے حیران کن تھا۔
حامد میر نے اپنے بیان میں ڈاکٹر یاسمین راشد کی عمر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جیل میں اپنے اندر چھپی بہار کو آزاد کر دیا۔ ان کے مطابق اس بہار کے رنگوں اور خوشبو کو اب دنیا کی کوئی طاقت قید نہیں رکھ سکتی۔
حامد میر کا یہ بیان ڈاکٹر یاسمین راشد کی اسیری کے دوران اختیار کی گئی ایک تخلیقی سرگرمی اور ان کی کڑھائی کے فن کو اجاگر کرتا ہے۔



