سڑکوں پر لوگوں سے مالی مدد حاصل کرنے کے ایک مبینہ نئے طریقے سے متعلق دعویٰ سامنے آیا ہے، جس میں ایک نوجوان کی جانب سے کھانے پینے کی اشیا جان بوجھ کر سڑک پر گرا کر لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔
دعویٰ کے مطابق نوجوان خراب چنے، بسکٹ، پاپڑ یا دیگر کھانے کی اشیا سڑک پر گرا دیتا ہے اور اس انداز میں ظاہر کرتا ہے جیسے اس کا سامان خراب یا ضائع ہوگیا ہو۔ اس کے بعد بعض افراد ہمدردی کرتے ہوئے اسے مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔
مبینہ طریقے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض افراد پانچ سو یا ایک ہزار روپے تک دے دیتے ہیں، جس کے بعد نوجوان وہ اشیا دوبارہ اکٹھی کر لیتا ہے اور مبینہ طور پر کسی دوسرے چوک یا مقام پر اسی عمل کو دہراتا ہے۔
دعویٰ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طریقے سے روزانہ پانچ سے دس ہزار روپے تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے شہریوں کو کسی بھی مشکوک صورتحال میں مالی مدد دینے سے قبل معاملے کی حقیقت جانچنے کی احتیاط کرنی چاہیے۔
دعویٰ کے مطابق نوجوان خراب چنے، بسکٹ، پاپڑ یا دیگر کھانے کی اشیا سڑک پر گرا دیتا ہے اور اس انداز میں ظاہر کرتا ہے جیسے اس کا سامان خراب یا ضائع ہوگیا ہو۔ اس کے بعد بعض افراد ہمدردی کرتے ہوئے اسے مالی مدد فراہم کرتے ہیں۔
مبینہ طریقے کے بارے میں کہا گیا ہے کہ بعض افراد پانچ سو یا ایک ہزار روپے تک دے دیتے ہیں، جس کے بعد نوجوان وہ اشیا دوبارہ اکٹھی کر لیتا ہے اور مبینہ طور پر کسی دوسرے چوک یا مقام پر اسی عمل کو دہراتا ہے۔
دعویٰ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طریقے سے روزانہ پانچ سے دس ہزار روپے تک حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی، اس لیے شہریوں کو کسی بھی مشکوک صورتحال میں مالی مدد دینے سے قبل معاملے کی حقیقت جانچنے کی احتیاط کرنی چاہیے۔



