چھ ستمبر کو باغ چتر ٹوپی کوپرہ کے مقام پر پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد ایک ایف سی اہلکار اور ایک ایکشن کمیٹی کارکن کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔ فورسز کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایکشن کمیٹی کے افراد نے حملہ کیا، جبکہ ایکشن کمیٹی نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے کوئی حملہ نہیں کیا گیا۔
واقعے کے بعد دونوں میتیں باغ ہسپتال منتقل کی گئیں۔ فراہم کردہ بیان کے مطابق ایکشن کمیٹی کے جاں بحق کارکن کی میت کے ساتھ ہسپتال میں مبینہ طور پر نامناسب سلوک کیا گیا اور اسے پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اندر لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔
بیان کے مطابق میت دو روز تک ہسپتال میں رہی، جس کے بعد تیسرے روز اسے بلدیہ باغ کے حوالے کیا گیا۔ وہاں مبینہ طور پر غسل دینے کے بعد ہڈوباڑی باغ کے قبرستان میں قبر تیار کی گئی، تاہم تدفین رات کے وقت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیان میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دن کے وقت لوگوں کے جمع ہونے اور ویڈیو یا تصاویر بنائے جانے کا خدشہ تھا۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق رات کے وقت میت کو ایک شہزور گاڑی میں قبرستان لے جایا گیا۔ عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنازہ قبر کے قریب پہنچنے پر وہاں موجود پولیس کانسٹیبل قدیر نے مبینہ طور پر قبر کھودنے اور اس کے بلاکس نکالنے کا حکم دیا۔ الزام ہے کہ قبر کھولنے کے بعد نماز جنازہ ادا کیے بغیر میت کو قبر میں ڈال دیا گیا اور اس کے اوپر بلاکس اور مٹی ڈال دی گئی۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ موقع پر موجود ایک شخص منظر دیکھ کر رو پڑا تو کانسٹیبل قدیر نے مبینہ طور پر اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح مٹھائی منگوانے اور اسے خوشی کا موقع قرار دینے سے متعلق بھی سنگین الزامات بیان میں شامل ہیں۔ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔
واقعے کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ سیاسی یا نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، الزامات اپنی جگہ اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا بھی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن میت کی حرمت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ چھ ستمبر کے اصل واقعے اور اس کے بعد جاں بحق کارکن کی میت کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ سلوک کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق ہو سکے۔
واقعے کے بعد دونوں میتیں باغ ہسپتال منتقل کی گئیں۔ فراہم کردہ بیان کے مطابق ایکشن کمیٹی کے جاں بحق کارکن کی میت کے ساتھ ہسپتال میں مبینہ طور پر نامناسب سلوک کیا گیا اور اسے پاؤں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے اندر لے جانے کا دعویٰ کیا گیا۔
بیان کے مطابق میت دو روز تک ہسپتال میں رہی، جس کے بعد تیسرے روز اسے بلدیہ باغ کے حوالے کیا گیا۔ وہاں مبینہ طور پر غسل دینے کے بعد ہڈوباڑی باغ کے قبرستان میں قبر تیار کی گئی، تاہم تدفین رات کے وقت کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ بیان میں اس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ دن کے وقت لوگوں کے جمع ہونے اور ویڈیو یا تصاویر بنائے جانے کا خدشہ تھا۔
فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق رات کے وقت میت کو ایک شہزور گاڑی میں قبرستان لے جایا گیا۔ عینی شاہدین کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ جنازہ قبر کے قریب پہنچنے پر وہاں موجود پولیس کانسٹیبل قدیر نے مبینہ طور پر قبر کھودنے اور اس کے بلاکس نکالنے کا حکم دیا۔ الزام ہے کہ قبر کھولنے کے بعد نماز جنازہ ادا کیے بغیر میت کو قبر میں ڈال دیا گیا اور اس کے اوپر بلاکس اور مٹی ڈال دی گئی۔
بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ موقع پر موجود ایک شخص منظر دیکھ کر رو پڑا تو کانسٹیبل قدیر نے مبینہ طور پر اسے گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ اسی طرح مٹھائی منگوانے اور اسے خوشی کا موقع قرار دینے سے متعلق بھی سنگین الزامات بیان میں شامل ہیں۔ ان تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اس خبر میں نہیں کی گئی۔
واقعے کے حوالے سے سوال اٹھایا گیا ہے کہ سیاسی یا نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، الزامات اپنی جگہ اور جرم ثابت ہونے کی صورت میں سزا بھی قانون کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن میت کی حرمت ہر حال میں برقرار رہنی چاہیے۔
بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ چھ ستمبر کے اصل واقعے اور اس کے بعد جاں بحق کارکن کی میت کے ساتھ پیش آنے والے مبینہ سلوک کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات کی جائیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں اور ذمہ داروں کا تعین قانون کے مطابق ہو سکے۔



