ابرار قریشی نے سیاسی صورتحال کے تناظر میں ہیرو اور ولن کی مثال دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ولن سے نہیں بلکہ ہیرو سے پیار کرتی ہے۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے ہاں ولن کون اور ہیرو کون ہے، یہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو ملکی سیاست میں مختلف کرداروں اور عوامی مقبولیت کے حوالے سے ایک معنی خیز تبصرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے براہِ راست کسی سیاسی شخصیت کا نام لیے بغیر ہیرو اور ولن کی اصطلاحات استعمال کیں، جس کے باعث ان کے بیان کو موجودہ سیاسی منظرنامے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔
ابرار قریشی نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارے ہاں ولن کون اور ہیرو کون ہے، یہ آپ بہتر جانتے ہیں۔ ان کے اس بیان کو ملکی سیاست میں مختلف کرداروں اور عوامی مقبولیت کے حوالے سے ایک معنی خیز تبصرے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے براہِ راست کسی سیاسی شخصیت کا نام لیے بغیر ہیرو اور ولن کی اصطلاحات استعمال کیں، جس کے باعث ان کے بیان کو موجودہ سیاسی منظرنامے سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔


