صدر پاکستان آصف علی زرداری کے بیرونِ ملک دوروں کے حوالے سے ابرار قریشی کا ایک طنزیہ بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے صدر کی جانب سے دبئی اور لندن کو اہم ملاقاتوں اور گفتگو کے لیے منتخب کرنے پر سوال اٹھایا ہے۔
ابرار قریشی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملک کے سربراہِ مملکت اتنے مجبور ہیں کہ انہیں راز و نیاز کی باتوں کے لیے پہلے دبئی اور اب لندن کا انتخاب کرنا پڑا۔ ان کے بیان میں صدارتی ہاؤس کی سکیورٹی اور مبینہ نگرانی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید پاکستان کے صدارتی ہاؤس میں خفیہ ویڈیو کیمرے یا آڈیو ریکارڈرز کی موجودگی کے خدشات ہیں، جس کی وجہ سے صدر کو نجی گفتگو کے لیے بیرونِ ملک مقامات کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔
ابرار قریشی کا یہ بیان سیاسی طنز کے انداز میں سامنے آیا ہے اور اس میں صدر آصف علی زرداری کے بیرونِ ملک دوروں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کے تبصرے نے سوشل میڈیا پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔
تاہم صدارتی ہاؤس میں خفیہ کیمروں یا آڈیو ریکارڈرز کی موجودگی سے متعلق ابرار قریشی کے بیان میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اس لیے اس حصے کو محض ایک سیاسی طنزیہ دعویٰ سمجھا جا سکتا ہے۔
ابرار قریشی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ملک کے سربراہِ مملکت اتنے مجبور ہیں کہ انہیں راز و نیاز کی باتوں کے لیے پہلے دبئی اور اب لندن کا انتخاب کرنا پڑا۔ ان کے بیان میں صدارتی ہاؤس کی سکیورٹی اور مبینہ نگرانی کے حوالے سے بھی سوال اٹھایا گیا ہے۔
انہوں نے طنزیہ انداز میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ شاید پاکستان کے صدارتی ہاؤس میں خفیہ ویڈیو کیمرے یا آڈیو ریکارڈرز کی موجودگی کے خدشات ہیں، جس کی وجہ سے صدر کو نجی گفتگو کے لیے بیرونِ ملک مقامات کا انتخاب کرنا پڑ رہا ہے۔
ابرار قریشی کا یہ بیان سیاسی طنز کے انداز میں سامنے آیا ہے اور اس میں صدر آصف علی زرداری کے بیرونِ ملک دوروں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کے تبصرے نے سوشل میڈیا پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں بحث کو جنم دیا ہے۔
تاہم صدارتی ہاؤس میں خفیہ کیمروں یا آڈیو ریکارڈرز کی موجودگی سے متعلق ابرار قریشی کے بیان میں کوئی قابلِ اعتماد ثبوت پیش نہیں کیا گیا، اس لیے اس حصے کو محض ایک سیاسی طنزیہ دعویٰ سمجھا جا سکتا ہے۔



