جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رکن سردار عمر نذیر کشمیری نے آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ طاقت کا مظاہرہ کرکے انہیں اور بلوچ، تراڑکھل، ٹاہلیان اور سدھنوتی کے لوگوں کو ڈرانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
سردار عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہیں اور وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں کے لوگ بھی اپنی جدوجہد میں ڈٹے ہوئے ہیں اور موجودہ حالات میں مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں جانی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سو سے زائد نوجوانوں کی قربانیوں اور بڑی تعداد میں زخمی و گرفتار افراد کے بعد پیچھے ہٹنے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہ قربانیاں اس جدوجہد کو مزید اہم بنا چکی ہیں۔
عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ طاقت کے ذریعے عوامی مطالبات کو دبانے کے بجائے مسئلے کا سیاسی اور پرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں مختلف علاقوں کے عوامی ردعمل اور سیاسی بیانات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ ایسے حالات میں تمام فریقین کے لیے مذاکرات اور پرامن سیاسی راستہ اختیار کرنا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سردار عمر نذیر کشمیری کے بیان نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ حلقے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اب صورتحال کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔
سردار عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ انہیں کسی قسم کا خوف نہیں اور وہ اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق ان علاقوں کے لوگ بھی اپنی جدوجہد میں ڈٹے ہوئے ہیں اور موجودہ حالات میں مزاحمت کا سلسلہ جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔
انہوں نے اپنے بیان میں جانی نقصانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سو سے زائد نوجوانوں کی قربانیوں اور بڑی تعداد میں زخمی و گرفتار افراد کے بعد پیچھے ہٹنے کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق یہ قربانیاں اس جدوجہد کو مزید اہم بنا چکی ہیں۔
عمر نذیر کشمیری نے کہا کہ طاقت کے ذریعے عوامی مطالبات کو دبانے کے بجائے مسئلے کا سیاسی اور پرامن حل تلاش کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عوام اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے پُرامن انداز میں اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں مختلف علاقوں کے عوامی ردعمل اور سیاسی بیانات کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔ ایسے حالات میں تمام فریقین کے لیے مذاکرات اور پرامن سیاسی راستہ اختیار کرنا اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
سردار عمر نذیر کشمیری کے بیان نے ایک بار پھر یہ واضح کیا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ حلقے اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ اب صورتحال کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ حکومت اور احتجاجی قیادت کے درمیان مذاکرات کس حد تک آگے بڑھتے ہیں۔



