صحافی ابرار قریشی نے آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے جاری سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت اور سابق وزیراعظم نواز شریف کے کردار کو نظرانداز کیے جانے کے حوالے سے سوالات پیدا ہو رہے ہیں۔
ابرار قریشی نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور پوری ن لیگی قیادت کو بائی پاس کرکے طاقتور حلقے اپنا وزیراعظم لانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس مبینہ سیاسی عمل کو علاقے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور احتجاجی صورتحال سے جوڑا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی فیصلوں کے حوالے سے عوام اور سیاسی قیادت میں تحفظات موجود ہیں تو پھر ایکشن کمیٹی کے قیام، احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ پر سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔
ابرار قریشی کے بیان کے مطابق آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں حکومت سازی کا معاملہ محض ایک سیاسی تقرری تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر سیاسی ماحول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے سیاسی رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور ممکنہ فیصلے آئندہ کے سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔
ابرار قریشی نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور پوری ن لیگی قیادت کو بائی پاس کرکے طاقتور حلقے اپنا وزیراعظم لانے جا رہے ہیں۔ انہوں نے اس مبینہ سیاسی عمل کو علاقے میں پیدا ہونے والی بے چینی اور احتجاجی صورتحال سے جوڑا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر سیاسی فیصلوں کے حوالے سے عوام اور سیاسی قیادت میں تحفظات موجود ہیں تو پھر ایکشن کمیٹی کے قیام، احتجاج اور ممکنہ لانگ مارچ پر سوال کیوں اٹھائے جا رہے ہیں۔
ابرار قریشی کے بیان کے مطابق آزاد کشمیر کی موجودہ صورتحال میں حکومت سازی کا معاملہ محض ایک سیاسی تقرری تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات وسیع تر سیاسی ماحول پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
آزاد کشمیر میں وزیراعظم کے انتخاب کے حوالے سے سیاسی رابطوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے میں مختلف سیاسی رہنماؤں کے بیانات اور ممکنہ فیصلے آئندہ کے سیاسی منظرنامے میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔



