عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے سپریم کورٹ کے اٹھارہ اگست کے حکم پر عملدرآمد نہ ہونے کا معاملہ ایک بار پھر عدالت عظمیٰ کے سامنے آگیا ہے۔ عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اطلاعات عطا تارڑ اور دیگر کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست کو سولہ ستمبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے مطابق متعلقہ کیٹیگری میں اس نوعیت کی چورانوے درخواستیں پہلے سے زیر التوا ہیں اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی درخواست ان میں سب سے آخر میں دائر ہوئی۔ عدالت نے اسی بنیاد پر درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسے مرکزی کیس کے ساتھ سولہ ستمبر کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی معاملے پر گفتگو کے دوران یہ جملہ بھی سامنے آیا کہ "جاؤ، ابھی ہمارے پاس وقت نہیں ہے، اس سے پہلے بھی چورانوے بار توہین عدالت ہو چکی ہے، پہلے وہ درخواستیں سنیں گے پھر عظمیٰ خان کی۔" اس بیان میں سپریم کورٹ میں زیر التوا توہین عدالت کی درخواستوں کی تعداد کو بنیاد بناتے ہوئے موجودہ عدالتی طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے اٹھارہ اگست کے حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ اگر حکومت کو عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی وضاحت درکار تھی تو متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، تاہم عدالتی حکم سے انحراف نہیں کیا جا سکتا تھا۔
عدالتی روسٹر کے مطابق درخواست کی سماعت تین رکنی بینچ کرے گا جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں۔ عدالت سولہ ستمبر کو درخواست کے قابل سماعت ہونے اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لے گی۔
اس معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا اور عمران خان کی صحت کے پیش نظر معاملے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اب سولہ ستمبر کی سماعت میں عدالت کی جانب سے اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کے مطابق متعلقہ کیٹیگری میں اس نوعیت کی چورانوے درخواستیں پہلے سے زیر التوا ہیں اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کی درخواست ان میں سب سے آخر میں دائر ہوئی۔ عدالت نے اسی بنیاد پر درخواست کی فوری سماعت کی استدعا مسترد کرتے ہوئے اسے مرکزی کیس کے ساتھ سولہ ستمبر کو مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔
اسی معاملے پر گفتگو کے دوران یہ جملہ بھی سامنے آیا کہ "جاؤ، ابھی ہمارے پاس وقت نہیں ہے، اس سے پہلے بھی چورانوے بار توہین عدالت ہو چکی ہے، پہلے وہ درخواستیں سنیں گے پھر عظمیٰ خان کی۔" اس بیان میں سپریم کورٹ میں زیر التوا توہین عدالت کی درخواستوں کی تعداد کو بنیاد بناتے ہوئے موجودہ عدالتی طریقہ کار پر سوال اٹھایا گیا ہے۔
ڈاکٹر عظمیٰ خان نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ سپریم کورٹ کے اٹھارہ اگست کے حکم کے باوجود عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا کہ اگر حکومت کو عدالتی فیصلے کے حوالے سے کوئی وضاحت درکار تھی تو متعلقہ عدالت سے رجوع کیا جا سکتا تھا، تاہم عدالتی حکم سے انحراف نہیں کیا جا سکتا تھا۔
عدالتی روسٹر کے مطابق درخواست کی سماعت تین رکنی بینچ کرے گا جس میں جسٹس شاہد وحید، جسٹس نعیم اختر افغان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل ہیں۔ عدالت سولہ ستمبر کو درخواست کے قابل سماعت ہونے اور فریقین کے مؤقف کا جائزہ لے گی۔
اس معاملے پر تحریک انصاف کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر عملدرآمد ہونا چاہیے تھا اور عمران خان کی صحت کے پیش نظر معاملے میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اب سولہ ستمبر کی سماعت میں عدالت کی جانب سے اس معاملے پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔



