جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے ملک میں جاری بدامنی اور ریاستی پالیسیوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں آگ لگی ہوئی ہے اور گزشتہ بیس سال سے آپریشنز کیے جا رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید خراب ہو رہے ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اگر مسلسل آپریشنز کے باوجود مرض بڑھ رہا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست کی پالیسیاں ناکام ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے اور اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے ریاستی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمت عملی میں بدنیتی کا عنصر موجود ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے ریاست کو ماں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ماں اپنی اولاد کو جوڑتی ہے، لیکن ان کے بقول ملک میں ایسی پالیسیاں بنائی جا رہی ہیں جو انتشار کو بڑھا رہی ہیں۔
مولانا فضل الرحمان نے اپنے خطاب میں ریاستی اداروں سے پالیسیوں پر نظرثانی کرنے اور ملک میں انتشار کے بجائے اتحاد پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق محض طاقت کے استعمال سے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے اور دیرپا امن کے لیے سیاسی اور حکومتی حکمت عملی میں بنیادی تبدیلی ضروری ہے۔
مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کے بعد ملک میں جاری سیکیورٹی صورتحال، گزشتہ کئی برسوں کے فوجی آپریشنز اور ریاستی پالیسیوں کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے سیاسی بحث مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔



