حلقہ بلوچ اور ضلع سدھنوتی آزاد کشمیر میں فوری جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کی اپیل۔
تازہ خبریں - سیاست

حلقہ بلوچ اور ضلع سدھنوتی میں فوری جنگ بندی کی اپیل، تعلیمی اداروں اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ

حلقہ بلوچ اور ضلع سدھنوتی میں فوری جنگ بندی کی اپیل
حلقہ بلوچ اور ضلع سدھنوتی آزاد کشمیر میں صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ مختلف تعلیمی اداروں میں فورسز کی موجودگی اور تین اطراف سے پیش قدمی کی اطلاعات کے باعث ہزاروں نہتے شہریوں کی جانیں خطرے میں ہیں۔
گرلز کالج سرساوہ
بوائز کالج پنجیڑہ
گرلز مڈل سکول منور
پرائمری سکول بل پنجیڑہ
بوائز مڈل سکول رجگان پندکاری پنجیڑہ

یہ تعلیمی ادارے ضلع کوٹلی کی بارڈر لائن اور ضلع سدھنوتی کے آغاز میں واقع ہیں۔ تتہ پانی کی جانب سے ایک سمت جبکہ پنجیڑہ اور پلندری کی جانب سے دوسری سمت اور سرساوہ سے کشمیر موڑ کی جانب سے تیسری سمت میں کشیدگی کی اطلاعات ہیں۔

ہزاروں کی تعداد میں نہتے عوام موجود ہیں۔ کسی بھی تصادم کی صورت میں بڑے پیمانے پر خون خرابے کا خدشہ ہے۔
ہم پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور تمام اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ اس صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے۔ ہم عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ نہتے کشمیری عوام کے تحفظ کے لیے فوری آواز اٹھائی جائے۔

اطلاعات کے مطابق ضلع سدھنوتی میں اب تک 26 نوجوان شہید ہو چکے ہیں جن میں حلقہ بلوچ سے 12 اور حلقہ پلندری سے 14 نوجوان شامل ہیں۔ پورے کشمیر میں شہادتوں کی تعداد 100 سے تجاوز کر چکی ہے۔
کسی بھی مسئلے کا حل گولی نہیں ہے۔
فوری طور پر فائرنگ بند کی جائے۔
نہتے شہریوں کے خلاف طاقت کا استعمال روکا جائے۔
تعلیمی اداروں کو محفوظ بنایا جائے۔
تمام فریق فوری طور پر مذاکرات کی میز پر آئیں۔

یہ وقت مزید خون بہانے کا نہیں بلکہ انسانی جانیں بچانے کا ہے۔

سیاسی جماعتوں اور اداروں سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ، کشمیر میں امن کا راستہ ہتھیار سے نہیں مذاکرات سے نکلے گا۔ کشمیر میں بے حد نقصان ہو چکا ہے۔ مزید نقصانات سے بچائیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *