سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پیٹرول کی قیمت اور ٹیکس کے نظام پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام شہری پیٹرول کی قیمت میں بھاری ٹیکس ادا کر رہا ہے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق جو پیٹرول عوام 350 روپے فی لیٹر خریدتے ہیں، وہ حکومت کو پورٹ پر 200 روپے کا پڑتا ہے، جبکہ اس پر 38 فیصد ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص مرسڈیز گاڑی خریدتا ہے تو اس پر 18 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ ایک غریب موٹرسائیکل سوار پیٹرول استعمال کرتے ہوئے 38 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں تقریباً 60 فیصد لوگ موٹرسائیکل چلاتے ہیں، اس لیے پیٹرول پر زیادہ ٹیکس کا براہ راست اثر عام اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پیٹرول پر بھی اتنا ہی ٹیکس عائد کرے جتنا مرسڈیز گاڑی پر ہے تو پیٹرول کی قیمت 45 سے 50 روپے فی لیٹر تک سستی ہو سکتی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے اپنے بیان میں موجودہ ٹیکس پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے تو اس کا فائدہ براہ راست عام شہری اور موٹرسائیکل استعمال کرنے والے افراد کو پہنچ سکتا ہے۔
مفتاح اسماعیل کے مطابق جو پیٹرول عوام 350 روپے فی لیٹر خریدتے ہیں، وہ حکومت کو پورٹ پر 200 روپے کا پڑتا ہے، جبکہ اس پر 38 فیصد ٹیکس لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص مرسڈیز گاڑی خریدتا ہے تو اس پر 18 فیصد ٹیکس عائد ہوتا ہے، جبکہ ایک غریب موٹرسائیکل سوار پیٹرول استعمال کرتے ہوئے 38 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے۔
مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ملک میں تقریباً 60 فیصد لوگ موٹرسائیکل چلاتے ہیں، اس لیے پیٹرول پر زیادہ ٹیکس کا براہ راست اثر عام اور کم آمدنی والے طبقے پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت پیٹرول پر بھی اتنا ہی ٹیکس عائد کرے جتنا مرسڈیز گاڑی پر ہے تو پیٹرول کی قیمت 45 سے 50 روپے فی لیٹر تک سستی ہو سکتی ہے۔
مفتاح اسماعیل نے اپنے بیان میں موجودہ ٹیکس پالیسی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پیٹرول پر ٹیکس کا بوجھ کم کیا جائے تو اس کا فائدہ براہ راست عام شہری اور موٹرسائیکل استعمال کرنے والے افراد کو پہنچ سکتا ہے۔



