آج 5 اگست 2026 ہے۔ بھارت کی جانب سے 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے فیصلے کو سات سال مکمل ہو گئے ہیں۔
اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور اپنے مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں۔ مختلف تنظیمیں اور کشمیری برادری اس دن کو یاد کرتے ہوئے اپنے مطالبات اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے تقاریب، سیمینارز اور احتجاجی پروگرام منعقد کر رہی ہیں۔
بھارت اس اقدام کو اپنے آئینی اور انتظامی فیصلے کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ متعدد کشمیری رہنما اور دیگر ناقدین اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے کشمیر کی متنازع حیثیت اور کشمیری عوام کے حقوق سے جوڑتے ہیں۔ یہ مسئلہ آج بھی جنوبی ایشیا کے اہم سیاسی اور سفارتی تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔
اس موقع پر دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری اس فیصلے کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں اور اپنے مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں۔ مختلف تنظیمیں اور کشمیری برادری اس دن کو یاد کرتے ہوئے اپنے مطالبات اور حقِ خودارادیت کے حوالے سے تقاریب، سیمینارز اور احتجاجی پروگرام منعقد کر رہی ہیں۔
بھارت اس اقدام کو اپنے آئینی اور انتظامی فیصلے کے طور پر پیش کرتا ہے، جبکہ متعدد کشمیری رہنما اور دیگر ناقدین اس فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے اسے کشمیر کی متنازع حیثیت اور کشمیری عوام کے حقوق سے جوڑتے ہیں۔ یہ مسئلہ آج بھی جنوبی ایشیا کے اہم سیاسی اور سفارتی تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔



